Posts

👻 Andheri Haveli ka Raaz – Wapas Na Aana!👻

Image
  خوفناک ہارر کہانی – اندھیری حویلی کا راز ایک گاؤں میں ایک پرانی، سنسان اور اندھیری حویلی موجود تھی۔ گاؤں والے اسے موت کی حویلی کہتے تھے، کیونکہ جو بھی اس میں گیا، کبھی واپس نہیں آیا۔ مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ اصل میں وہاں کیا ہوتا ہے۔ علی، ایک نوجوان جسے ایڈونچر کا بہت شوق تھا، اپنے دوستوں کے ساتھ حویلی میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سب نے اسے منع کیا، لیکن علی نے کہا: ڈرنے والوں کو کچھ نہیں ملتا! رات کے 12 بجے، علی اور اس کے دو دوست، سلمان اور حیدر، ٹارچیں لے کر حویلی میں داخل ہوتے ہیں۔ حویلی کے دروازے خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں، درختوں کی سرسراہٹ، اور دور سے آتی عورت کی سسکیوں کی آوازیں ماحول کو اور بھی خوفناک بنا دیتی ہیں۔ جیسے ہی وہ اندر گئے، ایک پرانا جھولا خودبخود ہلنے لگا۔ دیوار پر خون سے لکھا تھا: جو آیا، وہ گیا۔۔۔ جو گیا، وہ لوٹ کر نہ آیا! علی نے جیسے ہی دیوار کو چھوا، اچانک پوری حویلی میں چیخوں کی آواز گونجنے لگی۔ سلمان کا جسم کانپنے لگا، اور حیدر کی ٹارچ بند ہو گئی۔ اچانک ایک سفید چہرہ، لمبے ناخن، اور سرخ آنکھوں والی عورت ان کے سامنے آ گئی۔ علی نے بھاگنے ک...

Haunted Selfie Stick: Mazak Ya Haqeeqat?

Image
 علی ایک بالکل عام سا لڑکا تھا، بس اسے سیلفیاں لینے کا بڑا شوق تھا۔ حال ہی میں اُس نے ایک نئی سیلفی اسٹک خریدی تھی، جو اُس کی زندگی کا سب سے اہم سامان بن گئی تھی۔ دن رات وہ اِسی کے ساتھ تصویریں کھینچتا رہتا۔ ایک رات علی کے دل میں آیا کہ کچھ نیا کیا جائے۔ اُس نے سوچا، چلو شہر سے باہر اُس پرانی حویلی کی طرف چلتے ہیں، جس کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ وہاں بھوت رہتے ہیں۔ مگر علی کو ڈر کیسا؟ آخر اُس کے پاس سیلفی اسٹک جو تھی! جب علی حویلی کے اندر داخل ہوا، تو اُسے ایک عجیب سی ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ مگر اُس نے اُس کو نظر انداز کر دیا۔ حویلی پرانی اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی، لیکن علی نے فوراً سیلفی اسٹک نکالی اور تصویریں لینا شروع کر دیں۔ پہلی تصویر لینے کے بعد علی نے جو تصویر دیکھی، تو اُس کی آنکھیں کھل گئیں—تصویر میں اُس کے پیچھے کوئی اور شخص نظر آ رہا تھا! علی نے فوراً ایک اور سیلفی لی، لیکن اس بار وہ شخص اور بھی عجیب تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اُس کے ساتھ کھڑا ہو، لیکن اصل میں وہاں کوئی نہیں تھا۔ علی تھوڑا حیران ہوا، لیکن ساتھ ہی ہنس پڑا، شاید کسی دوست کا مذاق ہے۔ لیکن جب علی نے سیلفی...

Aakhri Sawaar (آخری سوار)

Image
 رات کے 12 بجے تھے، رمشا بس اسٹاپ پر اکیلی کھڑی تھی۔ شہر کی آخری بس کچھ دیر میں آنے والی تھی۔ سڑک سنسان تھی، دور سے صرف بس کے انجن کی آواز آ رہی تھی۔ جیسے ہی بس رکی، ڈرائیور نے کچھ بولے بغیر دروازہ کھولا۔ بس مکمل خالی تھی، صرف ایک آخری سیٹ پر کوئی سائے جیسا وجود بیٹھا تھا۔ رمشا نے جلدی سے بس میں بیٹھنا چاہا، لیکن جیسے ہی وہ اندر گئی، دروازہ خودبخود بند ہوگیا اور بس تیز رفتاری سے چل پڑی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ روشنی مدھم ہوتی گئی اور وہ سائے جیسا وجود قریب آتا گیا۔ وہ خوف سے چیخنے لگی، لیکن نہ ڈرائیور نے سنا، نہ بس رکی۔ پھر اچانک بس ایک سنسان قبرستان کے سامنے رکی، وہ سایہ آگے آیا اور بولا، “اب تیری باری ہے… آخری سوار ہمیشہ واپس نہیں جاتا… ٹوسٹ: اگلے دن اخبارات میں خبر چھپی: "ایک برس پہلے اسی بس میں آخری سواری بٹھنے والی رمشا آج دوبارہ اسی اسٹاپ پر ملی… لیکن اب وہ زندہ نہیں تھی۔ Ads