Aakhri Sawaar (آخری سوار)



 رات کے 12 بجے تھے، رمشا بس اسٹاپ پر اکیلی کھڑی تھی۔ شہر کی آخری بس کچھ دیر میں آنے والی تھی۔ سڑک سنسان تھی، دور سے صرف بس کے انجن کی آواز آ رہی تھی۔ جیسے ہی بس رکی، ڈرائیور نے کچھ بولے بغیر دروازہ کھولا۔ بس مکمل خالی تھی، صرف ایک آخری سیٹ پر کوئی سائے جیسا وجود بیٹھا تھا۔


رمشا نے جلدی سے بس میں بیٹھنا چاہا، لیکن جیسے ہی وہ اندر گئی، دروازہ خودبخود بند ہوگیا اور بس تیز رفتاری سے چل پڑی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ روشنی مدھم ہوتی گئی اور وہ سائے جیسا وجود قریب آتا گیا۔


وہ خوف سے چیخنے لگی، لیکن نہ ڈرائیور نے سنا، نہ بس رکی۔

پھر اچانک بس ایک سنسان قبرستان کے سامنے رکی، وہ سایہ آگے آیا اور بولا،

“اب تیری باری ہے… آخری سوار ہمیشہ واپس نہیں جاتا…

ٹوسٹ:


اگلے دن اخبارات میں خبر چھپی:

"ایک برس پہلے اسی بس میں آخری سواری بٹھنے والی رمشا آج دوبارہ اسی اسٹاپ پر ملی… لیکن اب وہ زندہ نہیں تھی۔

Ads 

Comments

Popular posts from this blog

👻 Andheri Haveli ka Raaz – Wapas Na Aana!👻