میں قبرستان سے کیوں گزرا؟

Kabristan
رات کی سیاہی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ ہوا میں عجب
 سی خنکی اور سکوت تھا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مجھے اکیلے قبرستان سے گزرنا پڑے گا، لیکن اس دن میرا راستہ وہیں سے جاتا تھا۔ جب میں پہلی بار گیٹ کے قریب پہنچا تو عجیب سا بوجھ دل پر محسوس ہوا۔ قدم جیسے منجمد ہوگئے تھے۔ مگر مجبوراً آگے بڑھنا پڑا۔
 قبرستان کے اندر داخل ہوتے ہی مجھے لگا جیسے درجنوں آنکھیں اندھیروں میں سے مجھے گھور رہی ہوں۔ درختوں کی شاخیں ہوا کے جھونکے سے ہل رہی تھیں، اور ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ان کو ہلا کر مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہو۔ اچانک میرے کانوں میں آہٹ سی
 گونجی۔۔۔ جیسے کوئی میرے پیچھے چل رہا ہو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہ تھا۔ دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ میں نے قدم تیز کیے، لیکن وہ آہٹیں بھی ساتھ ساتھ بڑھنے لگیں۔ اب میں تقریباً بھاگ رہا تھا۔ پسینے کے قطرے ٹھنڈی ہوا کے باوجود پیشانی سے بہہ رہے تھے۔ اچانک میرے
 سامنے ایک پرانی قبر پر سایہ سا حرکت کرتا دکھائی دیا۔۔۔ وہ سایہ لمبا اور خوفناک تھا۔ میں نے آنکھیں مل کر دوبارہ دیکھا۔۔۔ مگر وہاں کچھ نہ تھا۔ لیکن اس لمحے میرا دل چیخ اٹھا: یہ میں نے راستہ کیوں چُنا؟ قبرستان سے کیوں گزرا؟

Comments

Popular posts from this blog

👻 Andheri Haveli ka Raaz – Wapas Na Aana!👻